حدیث نمبر: 1825
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو . ح وأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالِدُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لذتوں کو کاٹنے والی ۱؎ کو خوب یاد کیا کرو ” ۲؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : محمد بن ابراہیم ابوبکر بن ابی شیبہ کے والد ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: لذتوں کو کاٹنے والی سے مراد موت ہے۔ ۲؎: موت کو کثرت سے یاد کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان اس سے نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے، اور برائیوں سے توبہ کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 1826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " , فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولِي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً " , فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اچھی باتیں کرو ، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں “ ۔ چنانچہ جب ابوسلمہ مر گئے ، تو میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں کیا کہوں ؟ تو آپ نے فرمایا ـ : ” تو کہو : «اللہم اغفر لنا وله وأعقبني منه عقبى حسنة» ” اے اللہ ! ہماری اور ان کی مغفرت فرما ، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما “ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ابوسلمہ کی وفات کے بعد ام سلمہ رضی الله عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گیا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں بدل ہی نہیں نعم البدل عطا فرما دیا۔