کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: موت کی دعا کا حکم۔
حدیث نمبر: 1823
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ وَهُوَ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْعُوا بِالْمَوْتِ وَلَا تَتَمَنَّوْهُ فَمَنْ كَانَ دَاعِيًا لَا بُدَّ فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم موت کی دعا نہ کرو ، اور نہ ہی اس کی تمنا ( مگر ) جسے دعا کرنا ضروری ہو وہ کہے : «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» ” اے اللہ ! مجھے زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور موت دیدے جب میرے لیے موت بہتر ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1823
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 496) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 1824
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا وَقَالَ : " لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ دَعَوْتُ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن ابی حازم کہتے ہیں` میں خباب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوا رکھے تھے وہ کہنے لگے : اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے نہ روکا ہوتا تو میں ( شدت تکلیف سے ) اس کی دعا کرتا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1824
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المرضی 19 (5672)، والدعوات 30 (6349)، والرقاق 7 (6430)، والتمني 6 (7234)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 4 (2681)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة القیامة 40 (2483)، (تحفة الأشراف: 3518) ، مسند احمد 5/109، 110، 111، 112 و 6/395 (صحیح)»