مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: موت کی آرزو و تمنا۔
حدیث نمبر: 1819
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا , وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے ، ( کیونکہ ) یا تو وہ نیک ہو گا تو ہو سکتا ہے زیادہ نیکی کرے ، یا برا ہو گا تو ہو سکتا ہے وہ برائی سے توبہ کر لے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لیے زندہ رہنا ہی اس کے لیے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1819
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14117) ، مسند احمد 2/236 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1820
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعِيشَ يَزْدَادُ خَيْرًا وَهُوَ خَيْرٌ لَهُ , وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے ( کیونکہ ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے ( اور ) زیادہ نیکی کرے ، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ، اور اگر گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کر لے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج «صحیح البخاری/المرضی 19 (5673)، التمني 6 (7235)، (تحفة الأشراف: 12934) ، مسند احمد 2/309، 514، سنن الدارمی/الرقاق 45 (2800) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1821
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَلَكِنْ لِيَقُلْ ، اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز مصیبت کی وجہ سے جو اسے دنیا میں پہنچتی ہے موت کی تمنا نہ کرے ۱؎ ، بلکہ یہ کہے : «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي‏» ” اے اللہ ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو ، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو “ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ زندگی کا جو حصہ باقی ہے اس کے دین و دنیا کے لیے بہتر ہو، اس لیے موت کی آرزو کرنا منع ہے، شہادت کی یا مقدس جگہ مرنے کی آرزو کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1821
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 805، حم3/104 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1822
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ . ح وَأَنْبَأَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا الْمَوْتَ فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو نہ کرے ، اس مصیبت کی وجہ سے جو اسے پہنچی ہے ، اگر موت کی آرزو کرنا ضروری ہو تو یہ کہے : «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» ” اے اللہ ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو ، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1822
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «حدیث إسماعیل ابن علیّة، عن عبدالعزیز أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات 30 (6351)، صحیح مسلم/الذکر 4 (2680)، سنن الترمذی/الجنائز 3 (971)، (تحفة الأشراف: 991) ، مسند احمد 3/101، وحدیث عبدالوارث، عن عبدالعزیز أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 13 (3108)، سنن ابن ماجہ/الزہد 31 (4265)، (تحفة الأشراف: 1037) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔