کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مومنوں کی روحوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2075
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2075
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/فضائل الجھاد 13 (1641)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 4 (1449)، والزھد 32 (4271)، (تحفة الأشراف: 11148)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (49) ، مسند احمد 3/455، 456، 460، 6/386 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2076
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، أَخَذَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ , فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ : " هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا " قَالَ عُمَرُ : وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِيكَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ ، فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى " يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ، يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا " , فَقَالَ عُمَرُ : تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا ، فَقَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ وہ ہم سے اہل بدر کے سلسلہ میں بیان کرنے لگے ، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( کافروں کے ) مارے جانے کی جگہیں ایک دن پہلے دکھلا دیں ، اور فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل فلاں کے پچھاڑ کھا کر گرنے کی جگہ یہاں ہو گی ، اور فلاں کی یہاں “ ، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ! ان جگہوں میں کوئی فرق نہیں آیا ، چنانچہ انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا ، ( پھر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، ( اور ) پکارا : ” اے فلاں ، فلاں کے بیٹے ! اے فلاں ، فلاں کے بیٹے ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے صحیح پایا ؟ میں نے تو اللہ نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے صحیح پایا “ ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2076
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجنة 17 (2873)، (تحفة الأشراف: 10410) ، مسند احمد 1/26 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2077
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ مِنَ اللَّيْلِ بِبِئْرِ بَدْرٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُنَادِي " يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوَ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا , فَقَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مسلمانوں نے رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے آواز لگاتے سنا : ” اے ابوجہل بن ہشام ! اے شیبہ بن ربیعہ ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اور اے امیہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے صحیح پایا ؟ ، میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو محض بدبودار لاش ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے ، لیکن ( فرق صرف اتنا ہے کہ ) وہ جواب نہیں دے سکتے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2077
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 713)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2874) ، مسند احمد 3/104، 220، 263 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2078
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ , فَقَالَ : " هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ، قَالَ : إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الْآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ " ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ : وَهِلَ ابْنُ عُمَرَ , إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمُ الْآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ " ، ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے ( اور ) فرمایا : ” کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا ؟ “ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ” اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں “ ، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا ، تو انہوں نے کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) کہا تھا : ” یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا “ ، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا : «إنك لا تسمع الموتى» ( النمل : ۸۰ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2078
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المغازي 8 (3980)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (932)، (تحفة الأشراف: 7323) ، مسند احمد 2/38 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2079
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، وَمُغِيرَةُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ بَنِي آدَمَ وَفِي حَدِيثِ مُغِيرَةَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ , يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی آدم ( کے جسم کا ہر حصہ ) ، ( مغیرہ والی حدیث میں ہے ) ابن آدم ( کے جسم کے ہر حصہ کو ) مٹی کھا جاتی ہے ، سوائے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے ، اسی سے وہ پیدا کیا گیا ہے ، اور اسی سے ( دوبارہ ) جوڑا جائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2079
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر الزمر 4 (4814)، وتفسیر النبأ 1 (4945)، صحیح مسلم/الفتن 28 (2955)، سنن ابی داود/السنة 24 (4743)، (تحفة الأشراف: 13835، 13884)، سنن ابن ماجہ/الزھد 32 (4266)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (48) ، مسند احمد 2/315، 322، 428، 499 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2080
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي ، وَشَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي ، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ , فَقَوْلُهُ : إِنِّي لَا أُعِيدُهُ كَمَا بَدَأْتُهُ ، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ بِأَعَزَّ عَلَيَّ مِنْ أَوَّلِهِ ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ , فَقَوْلُهُ : اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ، وَأَنَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ مجھے جھٹلانا اس کے لیے مناسب نہ تھا ، ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ مجھے گالی دینا اس کے لیے مناسب نہ تھا ، رہا اس کا مجھے جھٹلانا تو وہ اس کا ( یہ ) کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کر سکوں گا جیسے پہلی بار کیا تھا ، حالانکہ آخری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ دشوار مشکل نہیں ، اور رہا اس کا مجھے گالی دینا تو وہ اس کا ( یہ ) کہنا ہے کہ اللہ کے بیٹا ہے ، حالانکہ میں اللہ اکیلا اور بے نیاز ہوں ، نہ میں نے کسی کو جنا ، نہ مجھے کسی نے جنا ، اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2080
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13869)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 1 (3193)، وتفسیر سورة الصمد 1 (4974) ، مسند احمد 2/317، 350، 394 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2081
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ حَتَّى حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اسْحَقُونِي ، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ ، قَالَ : فَفَعَلَ أَهْلُهُ ذَلِكَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَيْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا : أَدِّ مَا أَخَذْتَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : خَشْيَتُكَ , فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا : ” ایک بندے نے اپنے اوپر ( بڑا ) ظلم کیا ، یہاں تک کہ موت ( کا وقت ) آپ پہنچا ، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا : جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر مجھے پیس ڈالنا ، کچھ ہوا میں اڑا دینا اور کچھ سمندر میں ڈال دینا ، اس لیے کہ اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوا تو ایسا ( سخت ) عذاب دے گا کہ ویسا عذاب اپنی کسی مخلوق کو نہیں دے گا “ ، تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جس نے اس کا کچھ حصہ لیا تھا حکم دیا کہ حاضر کرو جو کچھ تم نے لیا ہے ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سامنے کھڑا ہے ، ( تو ) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا ؟ اس نے کہا : تیرے خوف نے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2081
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3481)، والتوحید 35 (7506)، صحیح مسلم/التوبة 5 (2756)، سنن ابن ماجہ/الزھد 30 (4255)، (تحفة الأشراف: 12280)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (51) ، مسند احمد 2/269 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2082
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اطْحَنُونِي ، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ ، فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي ، قَالَ : فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ , قَالَ لَهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ : يَا رَبِّ , مَا فَعَلْتُ إِلَّا مِنْ مَخَافَتِكَ ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا ، چنانچہ جب موت ( کا وقت ) آپ پہنچا ، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا : جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر پیس ڈالنا ، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا ، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے ، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا ؟ اس نے کہا : اے میرے رب ! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2082
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3479)، والرقاق 25 (6480)، (تحفة الأشراف: 3312) ، مسند احمد 5/383، 395، 407 (صحیح)»