حدیث نمبر: 2039
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ , قَالَتْ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : بَلَى ، قَالَتْ : لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي هُوَ عِنْدِي تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا ، وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا ، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا ، وَخَرَجَ رُوَيْدًا ، وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي ، وَاخْتَمَرْتُ ، وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ، وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَطَالَ ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ ، وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ ، فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ , فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ حَشْيَا رَابِيَةً ؟ " قَالَتْ : لَا ، قَالَ : " لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ " ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ، قَالَ : " فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي " , قَالَتْ : نَعَمْ ، فَلَهَزَنِي فِي صَدْرِي لَهْزَةً أَوْجَعَتْنِي ، ثُمَّ قَالَ : " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " ، قُلْتُ : مَهْمَا يَكْتُمُ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ ، قَالَ : " فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ ، فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ ، فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ ، فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْبَقِيعَ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ، قُلْتُ : كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہی تھیں : کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ضرور بتائیے ، تو وہ کہنے لگیں ، جب وہ رات آئی جس میں وہ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے تو آپ ( عشاء ) سے پلٹے ، اپنے جوتے اپنے پائتانے رکھے ، اور اپنے تہبند کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا ، آپ صرف اتنی ہی مقدار ٹھہرے جس میں آپ نے محسوس کیا کہ میں سو گئی ہوں ، پھر آہستہ سے آپ نے جوتا پہنا اور آہستہ ہی سے اپنی چادر لی ، پھر دھیرے سے دروازہ کھولا ، اور دھیرے سے نکلے ، میں نے بھی اپنا کرتا ، اپنے سر میں ڈالا اور اپنی اوڑھنی اوڑھی ، اور اپنی تہبند پہنی ، اور آپ کے پیچھے چل پڑی ، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے ، اور اپنے ہاتھوں کو تین بار اٹھایا ، اور بڑی دیر تک اٹھائے رکھا ، پھر آپ پلٹے تو میں بھی پلٹ پڑی ، آپ تیز چلنے لگے تو میں بھی تیز چلنے لگی ، پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی ، پھر آپ اور تیز دوڑے تو میں بھی اور تیز دوڑی ، اور میں آپ سے پہلے آ گئی ، اور گھر میں داخل ہو گئی ، اور ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ بھی اندر داخل ہو گئے ، آپ نے پوچھا : ” عائشہ ! تجھے کیا ہو گیا ، یہ سانس اور پیٹ کیوں پھول رہے ہیں ؟ “ میں نے کہا : کچھ تو نہیں ہے ، آپ نے فرمایا : ” تو مجھے بتا دے ورنہ وہ ذات جو باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والی ہے مجھے ضرور بتا دے گی “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، پھر میں نے اصل بات بتا دی تو آپ نے فرمایا : ” وہ سایہ جو میں اپنے آگے دیکھ رہا تھا تو ہی تھی “ ، میں نے عرض کیا : جی ہاں ، میں ہی تھی ، آپ نے میرے سینہ پر ایک مکا مارا جس سے مجھے تکلیف ہوئی ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا تو یہ سمجھتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ظلم کریں گے “ ، میں نے کہا : جو بھی لوگ چھپائیں اللہ تعالیٰ تو اس سے واقف ہی ہے ، ( وہ آپ کو بتا دے گا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے جس وقت تو نے دیکھا ، مگر وہ میرے پاس اندر نہیں آئے کیونکہ تو اپنے کپڑے اتار چکی تھی ، انہوں نے مجھے آواز دی اور انہوں نے تجھ سے چھپایا ، میں نے انہیں جواب دیا ، اور میں نے بھی اسے تجھ سے چھپایا ، پھر میں نے سمجھا کہ تو سو گئی ہے ، اور مجھے اچھا نہ لگا کہ میں تجھے جگاؤں ، اور میں ڈرا کہ تو اکیلی پریشان نہ ہو ، خیر انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں مقبرہ بقیع آؤں ، اور وہاں کے لوگوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کروں “ ، میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں کیا کہوں ( جب بقیع میں جاؤں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہو «السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين يرحم اللہ المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» ” سلامتی ہو ان گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں پر ، اللہ تعالیٰ ہم میں سے اگلے اور پچھلے ( دونوں ) پر رحم فرمائے ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے ( ہی ) والے ہیں “ ۔
حدیث نمبر: 2040
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ , قَالَتْ : فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ تَتْبَعُهُ فَتَبِعَتْهُ ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي ، فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں` ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اپنا کپڑا پہنا پھر ( باہر ) نکل گئے ، تو میں نے اپنی لونڈی بریرہ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے پیچھے جائے ، چنانچہ وہ آپ کے پیچھے پیچھے گئی یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع پہنچے ، تو اس کے قریب کھڑے رہے جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے کھڑا رکھنا چاہا ، پھر آپ پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے پلٹ کر آ گئی ، اور اس نے مجھے بتایا ، لیکن میں نے آپ سے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ صبح کیا ، تو میں نے آپ کو ساری باتیں بتائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے حق میں دعا کروں “ ۔
حدیث نمبر: 2041
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَتْ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَخْرُجُ فِي آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا وَإِيَّاكُمْ مُتَوَاعِدُونَ غَدًا أَوْ مُوَاكِلُونَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں` جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے یہاں ہوتی تو رات کے آخری ( حصے ) میں مقبرہ بقیع کی طرف نکل جاتے ، ( اور ) کہتے : «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا وإياكم متواعدون غدا أو مواكلون وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون اللہم اغفر لأهل بقيع الغرقد» ” اے مومن گھر ( قبرستان ) والو ! تم پر سلامتی ہو ، ہم اور تم آپس میں ایک دوسرے سے کل کی حاضری کا وعدہ کرنے والے ہیں ، اور آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے ہیں ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں ، اے اللہ ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما “ ۔
حدیث نمبر: 2042
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى عَلَى الْمَقَابِرِ , فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَافِيَةَ لَنَا وَلَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قبرستان آتے تو فرماتے : «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون أنتم لنا فرط ونحن لكم تبع أسأل اللہ العافية لنا ولكم» ” اے مومن اور مسلمان گھر والو ! تم پر سلامتی ہو ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم ( عنقریب ) تم سے ملنے والے ہیں ، تم ہمارے پیش رو ہو ، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں ۔ میں اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کی درخواست کرتا ہوں “ ۔
حدیث نمبر: 2043
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَغْفِرُوا لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب نجاشی ( شاہ حبشہ ) کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ ان کی بخشش کی دعا کرو “ ۔
حدیث نمبر: 2044
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَقَالَ : " اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شاہ حبشہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو “ ۔