مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2034
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَامْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ ، فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم اس کی زیارت کیا کرو ۱؎ ، اور میں نے قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا تو اب جب تک جی چاہے رکھو ، اور میں نے تمہیں مشک کے علاوہ کسی اور برتن میں نبیذ ( پینے ) سے منع کیا تھا ، تو سارے برتنوں میں پیو ( مگر ) کسی نشہ آور چیز کو مت پینا “ ۔
وضاحت:
۱؎: قبروں کی زیارت کی ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی تاکہ یہ چیز قبر پرستی اور مردوں سے مدد مانگنے اور فریاد کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے پھر جب توحید کی تعلیم دلوں میں بیٹھ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2034
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، والأضاحي 5 (1977)، والأشربة 6 (977) (مقتصرا علی الشق الثالث)، سنن ابی داود/الأشربة 7 (3698)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 6 (1870)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 14 (3405)، (تحفة الأشراف: 2001) ، مسند احمد 5/350، 355، 356، 357، 361، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4434، 5654، 5657 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2035
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ إِلَّا ثَلَاثًا فَكُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، وَذَكَرْتُ لَكُمْ أَنْ لَا تَنْتَبِذُوا فِي الظُّرُوفِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ انْتَبِذُوا فِيمَا رَأَيْتُمْ ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` وہ ایک مجلس میں تھے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( موجود ) تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا ( تو اب تم ) کھاؤ ، کھلاؤ اور جب تک جی چاہے رکھ چھوڑو ، اور میں نے تم سے ذکر کیا تھا کہ کدو کی تمبی ، تار کول ملے ہوئے ، اور لکڑی کے اور سبز اونچے گھڑے کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ ، ( مگر اب ) جس میں مناسب سمجھو بناؤ ، اور ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو ، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا ( تو اب ) جو بھی زیارت کرنا چاہے کرے ، البتہ تم زبان سے بری بات نہ کہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2035
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2002) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔