حدیث نمبر: 1749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ " , قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِثَابِتٍ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ , قُلْتُ : سَمِعْتَهُ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے ۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے ثابت سے پوچھا : آپ نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : سبحان اللہ ، میں نے کہا : آپ نے اسے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ کہنا ان کا بطور تعجب تھا، مطلب یہ ہے کہ سنا کیوں نہیں ہے اگر نہیں سنا ہوتا تو بیان کیسے کرتا، اور یہ مؤلف کا قیاسی استنباط ہے، یہاں نہ اٹھانے سے مراد یہ ہے کہ اٹھانے میں مبالغہ نہیں کرتے تھے، نہ یہ کہ سرے سے اٹھاتے ہی نہیں تھے کیونکہ قنوت میں اور دوسرے موقعوں پر بھی آپ کا ہاتھ اٹھانا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1749
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق دون قوله قال شعبة , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (895)، (تحفة الأشراف: 444) ، مسند احمد 3/184، 209، 216، 259 (صحیح)»