کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: جب نماز کھڑے ہو کر شروع کرے تو کیسے کرے؟ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1647
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ , وَأَيُّوبُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بدیل اور ایوب دونوں عبداللہ بن شفیق سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کافی دیر تک نماز پڑھتے ، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے ہی رکوع کرتے ، اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو بیٹھ کر رکوع کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (955)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 159 (375)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1228)، (تحفة الأشراف: 16201)، 16203) ، مسند احمد 6/100، 227، 261، 262، 265 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1648
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قال : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قال : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا ، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن سیرین عبداللہ بن شفیق سے اور عبداللہ بن شقیق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے ، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے ، اور جب بیٹھ کر شروع کرتے تو بیٹھے بیٹھے ہی رکوع کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، (تحفة الأشراف: 16222) ، مسند احمد 6/112، 113، 166، 204، 227، 228، 262 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1649
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَالِكٍ ، قال : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , وَأَبُو النَّضْرِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرَ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور بیٹھے ہوتے ، اور قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے ، پھر جب آپ کی قرآت میں تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر باقی رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے ، اور کھڑے ہو کر قرآت کرتے ، پھر رکوع کرتے ، پھر سجدہ کرتے ، پھر دوسری رکعت میں ( بھی ) ایسے ہی کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 20 (1119)، التھجد 16 (1148)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (954)، سنن الترمذی/الصلاة 159 (374)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1227)، (تحفة الأشراف: 17709)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (23) ، مسند احمد 6/178 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1650
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ ، فَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ ، فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ بِهَا ثُمَّ رَكَعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے ، تو ( جب آپ بوڑھے ہو گئے ) تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھ کر قرآت کرتے ، پھر جب سورۃ میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو ان کی قرآت کھڑے ہو کر کرتے ، پھر رکوع کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17139) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1651
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قال : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے ، تو جب آپ رکوع کرنا چاہتے تو آدمی کے چالیس آیتیں پڑھنے کے بقدر ( باقی رہنے پر ) کھڑے ہو جاتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1226)، (تحفة الأشراف: 17950)، مسند احمد 6/217 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1652
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قال : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ , قَالَتْ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ , قُلْتُ : أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَكَانَ , قُلْتُ : أَجَلْ , قَالَتْ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا يُغْفِي وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ ، فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسَنَّ وَلُحِمَ ، فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ , قَالَتْ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ , فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ وَإِلَى حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ ، فَيُصَلِّي سِتَّ رَكَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ وَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا أَغْفَى وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَمْ لَا حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ , قَالَتْ : فَمَا زَالَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں` میں مدینہ آیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، انہوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں سعد بن ہشام بن عامر ہوں ، انہوں نے کہا : اللہ تمہارے باپ پر رحم کرے ، میں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق کچھ بتائیے ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ایسا کرتے تھے ، میں نے کہا : اچھا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں عشاء کی نماز پڑھتے تھے ، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف آتے اور سو جاتے ، پھر جب آدھی رات ہوتی ، تو قضائے حاجت کے لیے اٹھتے اور وضو کے پانی کے پاس آتے ، اور وضو کرتے ، پھر مسجد آتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ، تو پھر ایسا محسوس ہوتا کہ ان میں قرآت ، رکوع اور سجدے سب برابر برابر ہیں ، اور ایک رکعت وتر پڑھتے ، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے ، پھر آپ اپنے پہلو کے بل لیٹ جاتے ، تو کبھی اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ لگے بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آتے ، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے ، اور کبھی آپ کی آنکھ لگ جاتی ، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ سوئے یا نہیں سوئے یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے ، تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی ، یہاں تک کہ آپ عمردراز ہو گئے ، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا ، پھر انہوں نے آپ کے جسم پر گوشت چڑھنے کا حال بیان کیا جو اللہ نے چاہا ، وہ کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے ، پھر اپنے بچھونے کی طرف آتے ، تو جب آدھی رات ہو جاتی تو آپ اپنی پاکی اور حاجت کے لیے اٹھ کر جاتے ، پھر وضو کرتے ، پھر مسجد آتے تو چھ رکعتیں پڑھتے ، ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ان میں قرآت ، رکوع اور سجدے میں برابری رکھتے ہیں ، پھر آپ ایک رکعت وتر پڑھتے ، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے ، پھر اپنے پہلو کے بل لیٹتے تو کبھی بلال رضی اللہ عنہ آپ کی آنکھ لگنے سے پہلے ہی آ کر نماز کی اطلاع دیتے ، اور کبھی آنکھ لگ جانے پر آتے ، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ کی آنکھ لگی یا نہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے ، وہ کہتی ہیں : تو برابر یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رہی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1352) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الصلاة 316 (1352)، (تحفة الأشراف: 16096) ، مسند احمد 6/91، 97، 168، 216، 227، 235، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1723، 1725 (صحیح)»