کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1640
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قال : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " كَانَ إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ أَحْيَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسروق کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ( رمضان کا آخری ) عشرہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے ، اور اپنے اہل و عیال کو بیدار کرتے ، اور ( عبادت کے لیے ) کمر بستہ ہو جاتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1640
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/لیلة القدر 5 (2024)، صحیح مسلم/الاعتکاف 3 (1174)، سنن ابی داود/الصلاة 318 (1376)، سنن ابن ماجہ/الصوم 57 (1769)، (تحفة الأشراف: 17637) ، مسند احمد 6/40، 41 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1641
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال : أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَكَانَ لِي أَخًا صَدِيقًا , فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَمْرٍو حَدِّثْنِي مَا حَدَّثَتْكَ بِهِ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَتْ : " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ` میں اسود بن یزید کے پاس آیا ، وہ میرے بھائی اور دوست تھے ، تو میں نے کہا : اے ابوعمرو ! مجھ سے وہ باتیں بیان کریں جن کو ام المؤمنین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بیان کیا ہے ، تو انہوں نے کہا : وہ کہتی ہیں کہ آپ شروع رات میں سوتے تھے ، اور اس کے آخر کو زندہ رکھتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی رات کے آخری حصہ میں جاگ کر عبادت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1641
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المسافرین17 (739)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد 15 (1146)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 182 (1365)، (تحفة الأشراف: 16020) ، مسند احمد 6/102، 253 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1642
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحَ ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو ، یا رات بھر صبح تک عبادت کی ہو ، یا پورے مہینے روزے رکھے ہوں ، سوائے رمضان کے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الإقامة 178 (1348)، (تحفة الأشراف: 16108)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2184، 2350 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1643
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قال : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ , فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَتْ : فُلَانَةُ ، لَا تَنَامُ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا , فَقَالَ : " مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا ، وَلَكِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، اور ان کے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی تو آپ نے پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ انہوں نے کہا : فلاں ( عورت ) ہے جو سوتی نہیں ہے ، پھر انہوں نے اس کی نماز کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چپ رہو ، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہو ، قسم اللہ کی ، اللہ نہیں تھکتا ہے یہاں تک کہ تم تھک جاؤ ، پسندیدہ دین ( عمل ) اس کے نزدیک وہی ہے جس پر آدمی مداومت کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الإیمان 32 (43)، التھجد 18 (1151)، صحیح مسلم/المسافرین 32 (785)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزھد 28 (4238)، (تحفة الأشراف: 17307) ، مسند احمد 6/51، ویأتی عند المؤلف فی الإیمان 29 برقم: 5038 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1644
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ , فَقَالَ : " مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟ " , فَقَالُوا : لِزَيْنَبَ تُصَلِّي , فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، آپ نے دو ستونوں کے درمیان میں ایک لمبی رسی دیکھی ، تو آپ نے پوچھا : ” یہ رسی کیسی ہے ؟ “ تو لوگوں نے عرض کیا : زینب ( زینب بنت جحش ) کی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں ، جب کھڑے کھڑے تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک جاتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھولو اسے ، تم میں سے کوئی بھی ہو جب تک اس کا دل لگے نماز پڑھے ، اور جب تھک جائے تو بیٹھ جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/التھجد 18 (1150)، صحیح مسلم/المسافرین 31 (784)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 308 (1312)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 184 (1371)، (تحفة الأشراف: 1033) ، مسند احمد 3/101، 184، 204، 256 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1645
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قال : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ , يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ , فَقِيلَ لَهُ : قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ , قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے ، تو آپ سے عرض کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں ( پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں ) تو آپ نے فرمایا : ” کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1645
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/التھجد 6 (1130)، تفسیر الفتح 2 (4836)، الرقاق 20 (6471)، صحیح مسلم/المنافقین 18 (2819)، سنن الترمذی/الصلاة 188 (412)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 200 (1419)، (تحفة الأشراف: 11498) ، مسند احمد 4/251، 255 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1646
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِهْرَانَ وَكَانَ ثِقَةً ، قال : حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَزْلَعَ يَعْنِي تَشَقَّقُ قَدَمَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں پھٹ جاتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14299)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 200 (1420) (صحیح)»