مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1599
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قال : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے گھروں میں نماز پڑھو ، انہیں قبرستان نہ بناؤ “ ۔
وضاحت:
۱؎: نماز سے مراد نوافل اور سنتیں ہیں۔ انہیں قبرستان نہ بناؤ یعنی اس سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام نہیں ہوتا وہ قبرستان کی طرح ہوتے ہیں، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں اسی طرح ایسے گھر بھی عمل اور عبادت سے محروم ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1599
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8520)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 52 (432)، التھجد 37 (1187)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (777)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1043)، 346 (1448)، سنن الترمذی/الصلاة 214 (451)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 186 (1377) ، مسند احمد 2/6، 16، 123 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1600
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قال : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قال : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يُحَدِّثُ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ , ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً فَظَنُّوا أَنَّهُ نَائِمٌ , فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ , فَقَالَ : " مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صُنْعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ , وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ , فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے گھیر کر ایک کمرہ بنایا ، تو آپ نے اس میں کئی راتیں نمازیں پڑھیں یہاں تک کہ لوگ آپ کے پاس جمع ہونے لگے ، پھر ان لوگوں نے ایک رات آپ کی آواز نہیں سنی ، وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں ، تو ان میں سے کچھ لوگ کھکھارنے لگے ، تاکہ آپ ان کی طرف نکلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں اس کام میں برابر لگا دیکھا تو ڈرا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے ، اور اگر وہ تم پر فرض کر دی گئی تو تم اسے ادا نہیں کر سکو گے ، تو لوگو ! تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو ، کیونکہ آدمی کی سب سے افضل ( بہترین ) نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو سوائے فرض نماز کے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حکم تمام نفلی نمازوں کو شامل ہے، البتہ اس حکم سے وہ نمازوں مستثنیٰ ہیں جو شعائر اسلام میں شمار کی جاتی ہیں مثلاً عیدین، استسقاء اور کسوف و خسوف (چاند اور سورج گرہن) کی نمازوں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1600
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الأذان 81 (731)، الأدب 75 (6113)، الإعتصام 3 (7290)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (781)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1044)، 346 (1447)، سنن الترمذی/الصلاة 214 (450)، (تحفة الأشراف: 3698)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (4) ، مسند احمد 5/182، 183، 186، 187، سنن الدارمی/الصلاة 96 (1406) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1601
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قال : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، فَلَمَّا صَلَّى قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی ، جب آپ پڑھ چکے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ( سنت ) نماز کو گھروں میں پڑھنے کی پابندی کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الصلاة 304 (1300)، سنن الترمذی/فیہ 307 (الجمعة 71) (604)، (تحفة الأشراف: 11107) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔