کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: عید کے دن مسجد میں کھیلنے کودنے اور عورتوں کے اسے دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1596
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے آڑ کئے ہوئے تھے ، اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے ، یہاں تک کہ میں خود ہی اکتا گئی ، تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ایک کم سن لڑکی کھیل کود ( دیکھنے ) کی کتنی حریص ہوتی ہے ۔
حدیث نمبر: 1597
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى ، قال : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قال : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) داخل ہوئے ، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! انہیں چھوڑو ( کھیلنے دو ) یہ ” بنو ارفدہ “ ہی تو ہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: بنی ارفدہ حبشیوں کا لقب ہے۔