کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عید کی نماز پڑھنے والے کے لیے جمعہ سے غیر حاضر رہنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1592
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ ، قال : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ " أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ ؟ قَالَ : نَعَمْ صَلَّى الْعِيدَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایاس بن ابی رملہ کہتے ہیں کہ` میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا ، انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین میں رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے صبح میں عید کی نماز پڑھی ، پھر آپ نے جمعہ نہ پڑھنے کی رخصت دی ۔
وضاحت:
۱؎: عیدین سے مراد وہ دن ہے جس میں عید اور جمعہ دونوں ایک ساتھ آ پڑتے ہوں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 1592
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 217 (1070)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 166 (1310)، (تحفة الأشراف: 3657) ، مسند احمد 4/372، سنن الدارمی/الصلاة 225 (1653) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1593
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال : حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، قال : " اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَخَّرَ الْخُرُوجَ حَتَّى تَعَالَى النَّهَارُ ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ فَأَطَالَ الْخُطْبَةَ , ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ لِلنَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْجُمُعَةَ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ , فَقَالَ : أَصَابَ السُّنَّةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ` ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے دور میں دونوں عیدیں ایک ہی دن میں جمع ہو گئیں ، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نکلنے میں تاخیر کی یہاں تک کہ دن چڑھ آیا ، پھر وہ نکلے ، اور انہوں نے خطبہ دیا ، تو لمبا خطبہ دیا ، پھر وہ اترے اور نماز پڑھی ۔ اس دن انہوں نے لوگوں کو جمعہ نہیں پڑھایا یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا : انہوں نے سنت پر عمل کیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: صحیح صورت حال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اہل مدینہ کے ساتھ جمعہ پڑھا بھی اور انہیں پڑھایا بھی، ہاں دور سے آنے والے لوگوں کو جمعہ میں آنے سے رخصت دے دی، آپ نے فرمایا تھا: «نحن مجمعون» یعنی ہم تو جمعہ پڑھیں گے، (ابوداؤد، ابن ماجہ من حدیث ابوہریرہ وابن عباس) نیز ابھی حدیث رقم ۱۵۹۰ میں گزرا کہ جب عید اور جمعہ ایک ہی دن آ پڑتے تھے تو آپ «سبح اسم ربك الأعلى‏» اور «هل أتاك حديث الغاشية‏» دونوں میں پڑھا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 1593
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 217 (1071)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6538) (صحیح)»