کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: خطبہ سے فارغ ہو کر امام کا عورتوں کو نصیحت کرنے اور انہیں صدقہ و خیرات پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1587
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ، قال : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ رَجُلٌ : شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ ، يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ " فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ , فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى حَلَقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا : کیا آپ عیدین کے لیے جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں ، اور اگر میری آپ سے قرابت نہ ہوتی تو میں آپ کے ساتھ نہ ہوتا یعنی اپنی کم سنی کی وجہ سے ، آپ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے ، تو آپ نے ( وہاں ) نماز پڑھی ، پھر خطبہ دیا ، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے ، اور انہیں بھی آپ نے نصیحت کی اور ( آخرت کی ) یاد دلائی ، اور صدقہ کرنے کا حکم دیا ، تو عورتیں اپنا ہاتھ اپنے گلے کی طرف بڑھانے ( اور اپنا زیور اتار اتار کر ) بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں ۔