حدیث نمبر: 1580
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، قال : حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْطُبُ فَيَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ " , فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ , فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا تَكَلَّمَ وَإِلَّا رَجَعَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے ، پھر خطبہ دیتے تو صدقہ کرنے کا حکم دیتے ، تو صدقہ کرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھی ، پھر اگر آپ کو کوئی حاجت ہوتی یا کوئی لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو ذکر کرتے ورنہ لوٹ آتے ۔
حدیث نمبر: 1581
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ , قال : أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ , فَقَالَ " أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ , فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ , فَقَالَ : مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ , فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ , وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری سے روایت ہے کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بصرہ میں خطبہ دیا تو کہا : تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو ، تو ( یہ سن کر ) لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ، تو انہوں نے کہا : یہاں مدینہ والے کون کون ہیں ، تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ ، اور انہیں سکھاؤ کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو ، چھوٹے ، بڑے ، آزاد ، غلام ، مرد ، عورت سب پر فرض کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1582
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قال : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ , ثُمَّ قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ " , فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ " , قَالَ : فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا ، پھر فرمایا : ” جس نے ہماری ( طرح ) نماز پڑھی ، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا ، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی ، تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ تو ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا ، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے ، اس لیے میں نے جلدی کر دی ، چنانچہ میں نے ( خود ) کھایا ، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو گوشت کی بکری ہوئی “ ( اب قربانی کے طور پر دوسری کرو ) تو انہوں نے کہا : میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے ، جو گوشت کی دو بکریوں سے ( بھی ) اچھا ہے ، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی یہ قربانی کے لیے نہیں بلکہ صرف کھانے کے لیے ذبح کی گئی بکری ہے۔