کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: خطبہ میں امام کے کسی آدمی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1576
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ ، ثُمَّ مَالَ وَمَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ , فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ حَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " تَصَدَّقْنَ , فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ " , فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ : بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " , فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ قَلَائِدَهُنَّ وَأَقْرُطَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں عید کے دن نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ، آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے نماز پڑھی ، پھر جب نماز پوری کر لی ، تو آپ بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے ، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، لوگوں کو نصیحتیں کیں ، اور انہیں ( آخرت کی ) یاد دلائی ، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا ، پھر آپ مڑے اور عورتوں کی طرف چلے ، بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ، آپ نے انہیں ( بھی ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا ، اور انہیں نصیحت کی اور ( آخرت کی ) یاد دلائی ، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا ، پھر فرمایا : ” تم صدقہ کیا کرو کیونکہ عورتیں ہی زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی ، تو ایک عام درجہ کی ہلکے کالے رنگ کے گالوں والی عورت نے پوچھا : کس سبب سے اللہ کے رسول ؟ آپ نے فرمایا : ” ( کیونکہ ) وہ شکوے اور گلے بہت کرتی ہیں ، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہیں “ ، عورتوں نے یہ سنا تو وہ اپنے ہار ، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں ، وہ انہیں صدقہ میں دے رہی تھیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 1576
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1563 (صحیح)»