حدیث نمبر: 1522
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قال : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي ؟ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ` امراء میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا : وہ مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھتے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی و انکساری کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے نکلے ، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اسی طرح جیسی آپ عیدین میں پڑھتے تھے ، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں نفی قید کی ہے، مقید کی نہیں جیسا کہ اس پر وہ احادیث دلالت کرتی ہیں جن میں خطبہ کی تصریح ہے۔