حدیث نمبر: 1389
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ، ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کے مانند ( خوب اہتمام سے ) غسل کیا ، پھر وہ ( جمعہ میں شریک ہونے کے لیے ) پہلی ساعت ( گھڑی ) میں مسجد گیا ، تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا ، اور جو شخص اس کے بعد والی گھڑی میں گیا ، تو گویا اس نے ایک گائے پیش کی ، اور جو تیسری گھڑی میں گیا ، تو گویا اس نے ایک مینڈھا پیش کیا ، اور جو چوتھی گھڑی میں گیا ، تو گویا اس نے ایک مرغی پیش کی ، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا ، تو گویا اس نے ایک انڈا پیش کیا ، اور جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کے اندر آ جاتے ہیں ، اور خطبہ سننے لگتے ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی نام درج کرنے والا رجسٹر بند کر دیتے ہیں، اس میں نماز جمعہ کے لیے جلد سے جلد جانے کی ترغیب و فضیلت کا بیان ہے، جو جتنی جلدی جائے گا اتنا ہی زیادہ ثواب کا مستحق ہو گا۔
حدیث نمبر: 1390
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الْجُلَاحِ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَوْمُ الْجُمُعَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَاعَةً ، لَا يُوجَدُ فِيهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ , فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کا دن بارہ ساعتوں ( گھڑیوں ) پر مشتمل ہے ، اس کی ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتے ہوئے پایا جاتا ہے ، تو اسے وہ دیتا ہے ، تو تم اسے آخری گھڑی میں عصر کے بعد تلاش کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس گھڑی کے بارے میں علماء میں بہت اختلاف ہے، بعض علماء کے نزدیک راجح قول یہی ہے جو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں: یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے تک کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہے، واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 1391
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قال : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قال : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا " , قُلْتُ : أَيَّةَ سَاعَةٍ ؟ قَالَ : " زَوَالُ الشَّمْسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے ، پھر ہم لوٹتے تو اپنے اونٹوں کو آرام دیتے ، میں نے کہا : وہ کون سا وقت ہوتا ؟ ، انہوں نے کہا : سورج ڈھلنے کا ۔
حدیث نمبر: 1392
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ ، قال : سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے ، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جا سکے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی زوال ہوئے ابھی تھوڑا سا وقت گزرا ہوتا۔