کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: سجدہ سہو کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1233
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَمْ يَسْجُدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ السَّلَامِ وَلَا بَعْدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب ، ابوسلمہ ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابن ابی حثمہ چاروں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن نہ تو سلام سے پہلے سجدہ ( سہو ) کیا ، اور نہ ہی اس کے بعد ۔
حدیث نمبر: 1234
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَجَدَ يَوْمَ ذِي الْيَدَيْنِ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ السَّلَامِ " ,
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عراک بن مالک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین والے دن سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے ۔
حدیث نمبر: 1235
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ،` اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے مثل روایت کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 1236
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ عَوْنٍ وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَجَدَ فِي وَهْمِهِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول ہو جانے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ ( سہو ) کیا ۔
حدیث نمبر: 1237
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی ، آپ کو سہو ہو گیا ، تو آپ نے دو سجدے ( سہو کے ) کیے ، پھر سلام پھیرا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ سلام سجدہ سہو سے نکلنے کے لیے تھا، کیونکہ دیگر تمام روایات میں یہ صراحت ہے کہ آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا (پھر اس کے لیے سلام پھیرا) نماز میں رکعات کی کمی بیشی کے سبب جو سجدہ سہو آپ نے کئے ہیں، وہ سب سلام کے بعد میں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے، ہاں ان سجدوں کے بعد تشہد کے بارے میں تینوں احادیث ضعیف ہیں کما في التعلیقات السلفیۃ۔
حدیث نمبر: 1238
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ , يُقَالُ لَهُ : الْخِرْبَاقُ , فَقَالَ : يَعْنِي نَقَصَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ , فَقَالَ : " أَصَدَقَ " , قَالُوا : نَعَمْ , فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا ، ثُمَّ سَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا ، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے ، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہو گئی ہے ؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے ، اور پوچھا : ” کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، تو آپ کھڑے ہوئے ، اور ( جو چھوٹ گئی تھی ) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا ، پھر اس رکعت کے ( چھوٹ جانے کے سبب ) دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ۔