کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: رکوع میں اعتدال کا بیان۔
حدیث نمبر: 1029
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رکوع اور سجدے میں سیدھے رہو ۱؎ اور تم میں سے کوئی بھی اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے “ ۔
وضاحت:
۱؎: رکوع میں (اعتدال) سیدھا رہنے کا مطلب یہ ہے کہ پیٹھ کو سیدھا رکھے، اور سر کو اس کے برابر رکھے، نہ اوپر نہ نیچے، اور دونوں ہاتھ سیدھے کر کے گھٹنوں پر رکھے، اور سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ کہنیوں کو زمین سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، کتے کی طرح بازو بچھانے کا مطلب دونوں کہنیوں کو دونوں ہتھیلیوں کے ساتھ زمین پر رکھنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 1029
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «حدیث حماد بن سلمة عن قتادة عن أنس، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1161) ، وحدیث سعید بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس قد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 21 (892) ، (تحفة الأشراف: 1197) ، ویأتي عند المؤلف برقم: 1111، 1118، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 8 (532) ، الأذان 141 (822) ، صحیح مسلم/الصلاة 45 (493) ، سنن ابی داود/فیہ 158 (897) ، سنن الترمذی/فیہ 90 (286) ، مسند احمد 3/115، 177، 179، 191، 214، 274، 291، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1361) (صحیح)»