کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: «قل ھو اللہ أحد» پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 994
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ فَعَلَ ذَلِكَ فَسَأَلُوهُ " فَقَالَ : لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا ، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا ، اور قرأت «‏قل هو اللہ أحد» پر ختم کرتا تھا ، جب لوگ لوٹ کر واپس آئے ، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان سے پوچھو ، وہ ایسا کیوں کرتے تھے ؟ “ ان لوگوں نے ان سے پوچھا : انہوں نے کہا : یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے ، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 994
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/توحید 1 (7375) ، صحیح مسلم/المسافرین 45 (813) ، (تحفة الأشراف: 17914) (صحیح)»
حدیث نمبر: 995
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقول : أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ { 1 } اللَّهُ الصَّمَدُ { 2 } لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ { 3 } وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ { 4 } سورة الإخلاص آية 1-4 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : الْجَنَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا ، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد‏» پڑھتے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، میں نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا چیز واجب ہو گئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 995
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2897) ، (تحفة الأشراف: 14127) ، موطا امام مالک/القرآن 6 (18) ، مسند احمد 2/302، 535، 536 (صحیح)»
حدیث نمبر: 996
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد» پڑھتے سنا ، وہ اسے باربار دہرا رہا تھا ، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بعض علماء نے اس کی توضیح اس طرح کی ہے کہ علوم قرآن کی تین قسمیں ہیں، ایک توحید، دوسری تشریع، اور تیسری اخلاق، ان میں سے پہلی قسم توحید کا جامع بیان اس سورت میں موجود ہے اس لیے اسے ثلث قرآن کہا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 996
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/فضائل القرآن 13 (5013) ، الأیمان والنذور 3 (6643) ، التوحید 1 (7374) ، سنن ابی داود/الصلاة 353 (1461) ، (تحفة الأشراف: 4104) ، موطا امام مالک/القرآن 6 (17) ، مسند احمد 3/23، 35، 43 (صحیح)»
حدیث نمبر: 997
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ امْرَأَةٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : مَا أَعْرِفُ إِسْنَادًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں : میں کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 997
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2896) ، (تحفة الأشراف: 3502) ، مسند احمد 5/418، 419، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3480) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)»