کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: ظہر میں قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 972
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ ، قال : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ قال : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْبَرِيدِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قال : " كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَنَسْمَعُ مِنْهُ الْآيَةَ بَعْدَ الْآيَاتِ مِنْ سُورَةِ لُقْمَانَ وَالذَّارِيَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر پڑھتے تھے ، تو ہم آپ سے سورۃ لقمان اور سورۃ والذاریات کی ایک آدھ آیت کئی آیتوں کے بعد سن لیتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی آپ سری قرات کرتے تھے لیکن کبھی کبھی کوئی آیت زور سے بھی پڑھ دیا کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ سری نمازوں میں کبھی کبھی کوئی آیت جہر سے پڑھ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 972
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (830) أبوإسحاق عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الإقامة 8 (830) ، (تحفة الأشراف: 1891) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو اسحاق‘‘ مختلط ہو گئے تھے، نیز مدلس بھی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں)»
حدیث نمبر: 973
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ النَّضْرِ ، قال : كُنَّا بِالطَّفِّ عِنْدَ أَنَسٍ فَصَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا فَرَغَ قال : " إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ لَنَا بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ` میں نے ابوبکر بن نضر کو کہتے سنا کہ ہم طف میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے لوگوں کو ظہر پڑھائی ، جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھی ، تو آپ نے ( ظہر کی ) دونوں رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں یعنی «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھی ۔
وضاحت:
۱؎: طف کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 973
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو بكر بن النضر بن أنس بن مالك: مستور،لم أجد من وثقه. ولبعض الحديث شاهد عند ابن خزيمة (بتحقيقي: 512 وسنده صحيح) وابن حبان (469). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1714) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو بکر بن نضر‘‘ مجہول الحال ہیں)»