کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: نماز فجر میں سورۃ «‏‏‏‏ق»‏‏‏‏ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 950
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قالت : " مَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے «ق ، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( سن سن کر ) یاد کیا ہے ، آپ اسے فجر میں ( بکثرت ) پڑھا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الافتتاح / حدیث: 950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ والمحفوظ أن ذلك كان في خطبة الجمعة , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18363) ، مسند احمد 6/463 (شاذ) (اس کے راوی ’’ابن ابی الرجال‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں اس لیے کبھی غلطی کر جاتے تھے، اور یہاں کر بھی گئے ہیں، محفوظ یہ ہے کہ منبر پر خطبہ میں پڑھنے کی بات ہے، جیسا کہ مؤلف کے یہاں بھی آ رہا ہے، دیکھئے رقم: 1412)»
حدیث نمبر: 951
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قال : سَمِعْتُ عَمِّي يَقُولُ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ " فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَلَقِيتُهُ فِي السُّوقِ فِي الزِّحَامِ فَقَالَ ق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی ، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎ ، شعبہ کہتے ہیں : میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا : سورۃ «ق» پڑھی ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ سورۃ پڑھی جس میں یہ آیت ہے جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الافتتاح / حدیث: 951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 35 (457) ، سنن الترمذی/فیہ 112 (306) ، سنن ابن ماجہ/إقامة 5 (816) ، (تحفة الأشراف: 11087) ، مسند احمد 4/322، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1334، 1335) (صحیح)»