کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: دونوں ہاتھوں کو بڑھا کر اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 884
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ ، قال : جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقَالَ : " ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ مَدًّا وَيَسْكُتُ هُنَيْهَةً وَيُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ زریق کی مسجد میں آئے ، اور کہنے لگے : تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے ۱؎ ، آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے تھے ، اور تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ۲؎ اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے وقت میں بعض سنتوں پر لوگوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ۲؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد، جیسا کہ حدیث رقم (۸۹۶) میں جو آ رہی ہے صراحت ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الافتتاح / حدیث: 884
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 119 (753) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 63 (240) مختصراً، (تحفة الأشراف: 13081) ، مسند احمد 2/375، 434، 500، سنن الدارمی/الصلاة 32 (1273) (صحیح)»