حدیث نمبر: 870
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قال : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال : " أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا فَصَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَهُ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس روایت سے مصنف نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے واضح ہوتا ہے لیکن جو لوگ عدم جواز کے قائل ہیں وہ اسے عورتوں کے لیے مخصوص مانتے ہیں۔
حدیث نمبر: 871
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ مَالِكٍ وَهُوَ عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ : فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی ، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی ، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں ، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎ ، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر : ۲۴ ) ” ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: مؤلف نے اسے پیچھے تنہا پڑھنے پر محمول کیا ہے لیکن حدیث صراحۃً اس پردلالت نہیں کرتی۔