حدیث نمبر: 845
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودٍ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ السُّيُولَ لَتَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي فَأُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَكَانٍ مِنْ بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَنَفْعَلُ " فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيْنَ تُرِيدُ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے اور میرے قبیلہ کی مسجد کے درمیان ( برسات میں ) سیلاب حائل ہو جاتا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے ، اور میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیتے جسے میں مصلیٰ بنا لیتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا ہم آئیں گے “ ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے پوچھا : ” تم کہاں چاہتے ہو ؟ “ تو میں نے گھر کے ایک گوشہ کی جانب اشارہ کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی ، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے جماعت کے ساتھ نفل پڑھنے کا جواز ثابت ہوا۔