کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: اقامت کے بعد امام کو کوئی ضرورت پیش آ جائے جس سے وہ نماز مؤخر کر دے۔
حدیث نمبر: 792
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قال : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے راز داری کی باتیں کر رہے تھے ، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ہو سکتا ہے یہ گفتگو کسی ضروری امر پر مشتمل رہی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان جواز کے لیے ایسا کیا ہو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اقامت میں اور نماز شروع کرنے میں فصل کرنا نماز کے لیے مضر نہیں۔