کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اذان کے بعد نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 679
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عَلْقَمَةَ ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ، يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ وَصَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : ” جب مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے ، اور مجھ پر صلاۃ و سلام ۱؎ بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت و برکت بھیجتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ ۲؎ طلب کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک درجہ و مرتبہ ہے جو کسی کے لائق نہیں سوائے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کے ، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں ، تو جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا ، اس پر میری شفاعت واجب ہو جائے گی “ ۳؎ ۔
وضاحت:
۱؎: صلاۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی رحمت و مغفرت کے ہیں، اور فرشتوں کی طرف ہو تو مغفرت طلب کرنے کے ہیں، اور بندوں کی طرف ہو تو دعا کرنے کے ہیں۔ ۲؎: وسیلہ کے معنی قرب کے، اور اس طریقہ کے ہیں جس سے انسان اپنے مقصود تک پہنچ جائے، یہاں مراد جنت کا وہ درجہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا۔ ۳؎: بشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان اور توحید پر ہوا ہو۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأذان / حدیث: 679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 7 (384)، سنن ابی داود/الصلاة 36 (523)، سنن الترمذی/المناقب 1 (3614)، (تحفة الأشراف: 8871)، مسند احمد 2/168، وفی الیوم واللیلة (45) (صحیح)»