کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اجرت نہ لینے والے آدمی کو مؤذن مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 673
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، قال : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي ، فَقَالَ : " أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان کے امام ہو ( لیکن ) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ۱؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأذان / حدیث: 673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 40 (531)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (987)، (تحفة الأشراف: 9770)، مسند احمد 4/21 (217، 218)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 37 (468) (صحیح)»