کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: صبح کی اذان کا وقت۔
حدیث نمبر: 643
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصُّبْحِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ الْفَجْرَ حَتَّى أَسْفَرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا وَقْتُ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کی اذان کا وقت پوچھا ، تو آپ نے بلال کو حکم دیا ، تو انہوں نے فجر طلوع ہونے کے بعد اذان دی ، پھر جب دوسرا دن ہوا تو انہوں نے فجر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ خوب اجالا ہو گیا ، پھر آپ نے انہیں ( اقامت کا ) حکم دیا ، تو انہوں نے اقامت کہی ، اور آپ نے نماز پڑھائی پھر فرمایا : ” یہ ہے فجر کا وقت “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأذان / حدیث: 643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 815)، مسند احمد 3/121 (صحیح الإسناد)»