کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: فرمان باری تعالیٰ کہ توشہ ساتھ میں لے لو اور سب سے بہتر توشہ تقویٰ ہے۔
حدیث نمبر: 1523
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ : نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ ، فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ سَأَلُوا النَّاسَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى سورة البقرة آية 197 " ، رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن بشر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا ، ان سے ورقاء بن عمرو نے ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` یمن کے لوگ راستہ کا خرچ ساتھ لائے بغیر حج کے لیے آ جاتے تھے ۔ کہتے تو یہ تھے کہ ہم توکل کرتے ہیں لیکن جب مکہ آتے تو لوگوں سے مانگنے لگتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” اور توشہ لے لیا کرو کہ سب سے بہتر توشہ تو تقویٰ ہی ہے ۔ “ اس کو ابن عیینہ نے عمرو سے بواسطہ عکرمہ مرسلاً نقل کیا ہے ۔