مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: (آرام کر لینے کے بعد) وادی محصب سے آخری رات میں چل دینا۔
حدیث نمبر: 1771
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ ، فَقَالَتْ : مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَقْرَى حَلْقَى ، أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ قِيلَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَانْفِرِي " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ .
مولانا داود راز
´ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` مکہ سے روانگی کی رات صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں ، انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے روکنے کا باعث بن جاؤں گی ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1771
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1772
حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَلْقَى عَقْرَى ، مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَكُمْ ، ثُمَّ قَالَ : كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ , قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَانْفِرِي ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ حَلَلْتُ ، قَالَ : فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ ، فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا فَلَقِينَاهُ مُدَّلِجًا ، فَقَالَ : مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا داود راز
´ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا ، محمد بن سلام نے ( اپنی روایت میں ) یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے محاضر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حجتہ الوداع ) میں مدینہ سے نکلے تو ہماری زبانوں پر صرف حج کا ذکر تھا ۔ جب ہم مکہ پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول دینے کا حکم دیا ( افعال عمرہ کے بعد جن کے ساتھ قربانی نہیں تھی ) روانگی کی رات صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا «عقرى حلقى» ایسا معلوم ہوتا کہ تم ہمیں روکنے کا باعث بنو گی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا قربانی کے دن تم نے طواف الزیارۃ کر لیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلی چلو ! ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے متعلق کہا کہ ) میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں نے احرام نہیں کھولا ہے آپ نے فرمایا کہ تم تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھ لو ( اور عمرہ کر لو ) چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کے بھائی گئے ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا کہ ہم رات کے آخر میں واپس لوٹ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم تمہار انتظار فلاں جگہ کریں گے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1772
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔