مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: رمی جمار وادی کے نشیب سے کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1747
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : " رَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا ، فَقَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا .
مولانا داود راز
´محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابراہیم نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ` عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وادی کے نشیب ( بطن وادی ) میں کھڑے ہو کر کنکری ماری تو میں نے کہا ، اے ابوعبدالرحمٰن ! کچھ لوگ تو وادی کے بالائی علاقہ سے کنکریاں مارتے ہیں ، اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہی ( بطن وادی ) ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے ( رمی کرتے وقت ) جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ان سے سفیان ثوری نے اور ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1747
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔