مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کنکریاں مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q1746
وَقَالَ جَابِرٌ رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى ، وَرَمَى بَعْدَ ذَلِكَ بَعْدَ الزَّوَالِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو چاشت کے وقت کنکریاں ماری تھیں اور اس کے بعد کی تاریخوں میں سورج ڈھل جانے پر ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: Q1746
حدیث نمبر: 1746
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ ؟ , قَالَ : إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِهْ ، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَيَّنُ ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا ، ان سے وبرہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں کنکریاں کس وقت ماروں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ` جب تمہارا امام مارے تو تم بھی مارو ، لیکن دوبارہ میں نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم انتظار کرتے رہتے اور جب سورج ڈھل جاتا تو کنکریاں مارتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1746
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔