مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: قربانی کے جانوروں میں سے کیا کھائیں اور کیا خیرات کریں۔
حدیث نمبر: Q1719
وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، لَا يُؤْكَلُ مِنْ جَزَاءِ الصَّيْدِ وَالنَّذْرِ وَيُؤْكَلُ مِمَّا سِوَى ذَلِكَ ، وَقَالَ عَطَاءٌ : يَأْكُلُ وَيُطْعِمُ مِنَ الْمُتْعَةِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور عبیداللہ نے کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ احرام میں کوئی شکار کرے اور اس کا بدلہ دینا پڑے تو بدلہ کے جانور اور نذر کے جانور سے خود کچھ نہ کھائے اور باقی سب میں سے کھا لے اور عطا نے کہا تمتع کی قربانی سے کھائے اور کھلائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: Q1719
حدیث نمبر: 1719
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثِ مِنًى ، فَرَخَّصَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كُلُوا وَتَزَوَّدُوا ، فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا " ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَقَالَ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ ، قَالَ : لَا .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے عطاء نے ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے فرمایا کہ` ہم اپنی قربانی کا گوشت منیٰ کے بعد تین دن سے زیادہ نہیں کھاتے تھے ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا کہ کھاؤ بھی اور توشہ کے طور پر ساتھ بھی لے جاؤ ، چنانچہ ہم نے کھایا اور ساتھ بھی لائے ۔ ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کیا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے ، انہوں نے کہا نہیں ایسا نہیں فرمایا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1719
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1720
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ ، وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بالبيت ، ثُمَّ يَحِلُّ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ : ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ " , قَالَ يَحْيَى : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ ، فَقَالَ : أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ .
مولانا داود راز
´ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، ان سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عمرہ نے بیان کیا ، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، انہوں نے فرمایا کہ` ہم مدینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تھے ، ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا ، پھر جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہو جائیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر ہمارے پاس بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اس وقت معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے ۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے تم سے ٹھیک ٹھیک حدیث بیان کر دی ہے ۔ ( ہر دو احادیث سے مقصد باب ظاہر ہے ) کہ قربانی کا گوشت کھانے اور بطور توشہ رکھنے کی عام اجازت ہے ، خود قرآن مجید میں «فكلوا منها» کا صیغہ موجود ہے کہ اسے غرباء مساکین کو بھی تقسیم کرو اور خود بھی کھاؤ ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1720
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔