مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: قربانی کے جانوروں کے لیے جھول کا ہونا۔
حدیث نمبر: Q1707
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يَشُقُّ مِنَ الْجِلَالِ إِلَّا مَوْضِعَ السَّنَامِ ، وَإِذَا نَحَرَهَا نَزَعَ جِلَالَهَا مَخَافَةَ أَنْ يُفْسِدَهَا الدَّمُ ، ثُمَّ يَتَصَدَّقُ بِهَا .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صرف کوہان کی جگہ کے جھول کو پھاڑتے اور جب اس کی قربانی کرتے تو اس ڈر سے کہ کہیں اسے خون خراب نہ کر دے جھول اتار دیتے اور پھر اس کو بھی صدقہ کر دیتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: Q1707
حدیث نمبر: 1707
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِجِلَالِ الْبُدْنِ الَّتِي نَحَرْتُ وَبِجُلُودِهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی نجیح نے ، ان سے مجاہد نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قربانی کے جانوروں کے جھول اور ان کے چمڑے کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا جن کی قربانی میں نے کر دی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1707
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔