حدیث نمبر: Q1699
وَقَالَ عُرْوَةُ : عَنْ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ .
مولانا داود راز
اور عروہ نے مسور سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو ہار پہنایا اور اس کا اشعار کیا ، پھر عمرہ کے لیے احرام باندھا تھا ۔
حدیث نمبر: 1699
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا أَوْ قَلَّدْتُهَا ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى البيت وَأَقَامَ بالمدينة ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلٌّ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا ، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے قلادے خود بٹے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشعار کیا اور ہار پہنایا ، یا میں نے ہار پہنایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے لیے انہیں بھیج دیا اور خود مدینہ میں ٹھہر گئے لیکن کوئی بھی ایسی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حرام نہیں ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی ۔