حدیث نمبر: 1697
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ ، قَالَ : " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي ، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے کہ مجھے نافع نے خبر دی انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، کہا میں نے کہا :` یا رسول اللہ ! اور لوگ تو حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی ہدی کو قلادہ پہنا دیا ہے ، اس لیے جب تک حج سے بھی حلال نہ ہو جاؤں میں ( درمیان میں ) حلال نہیں ہو سکتا ، ( گوند لگا کر سر کے بالوں کا جما لینا اس کو تلبید کہتے ہیں ) ۔
حدیث نمبر: 1698
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ وعن عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا :` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی ساتھ لے کر چلتے تھے اور میں ان کے قلادے بٹا کرتی تھی پھر بھی آپ ( احرام باندھنے سے پہلے ) ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے ایک محرم پرہیز کرتا ہے ۔