مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس شخص کے بارے میں جس نے قربانی کا جانور راستے میں خریدا۔
حدیث نمبر: 1693
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ لِأَبِيهِ : أَقِمْ فَإِنِّي لَا آمَنُهَا أَنْ سَتُصَدّ عَنْ البيت ، قَالَ : إِذًا أَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ، فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَلَى نَفْسِي الْعُمْرَةَ ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنَ الدَّارِ ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، وَقَالَ : مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ ، ثُمَّ اشْتَرَى الْهَدْيَ مِنْ قُدَيْدٍ ، ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا ، فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا ( جب وہ حج کے لیے نکل رہے تھے ) کہ آپ نہ جائیے کیوں کہ` میرا خیال ہے کہ ( بدامنی کی وجہ سے ) آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا جائے گا ۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر میں بھی وہی کام کروں گا جو ( ایسے موقعہ پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے “ میں اب تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے ، چنانچہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا ، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نکلے اور جب بیداء پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا اور فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں اس کے بعد قدید پہنچ کر ہدی خریدی پھر مکہ آ کر دونوں کے لیے طواف کیا اور درمیان میں نہیں بلکہ دونوں سے ایک ہی ساتھ حلال ہوئے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1693
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔