حدیث نمبر: 1684
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، يَقُولُ : شَهِدْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بِجَمْعٍ الصُّبْحَ ، ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ : " إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَيَقُولُونَ : أَشْرِقْ ثَبِيرُ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ، ثُمَّأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحٰق نے ، انہوں نے عمرو بن میمون کو یہ کہتے سنا کہ` جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھی تو میں بھی موجود تھا ، نماز کے بعد آپ ٹھہرے اور فرمایا کہ مشرکین ( جاہلیت میں یہاں سے ) سورج نکلنے سے پہلے نہیں جاتے تھے کہتے تھے اے ثبیر ! تو چمک جا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے ۔