حدیث نمبر: 1666
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا جَالِسٌ ، " كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ ؟ قَالَ : كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " , قَالَ هِشَامٌ : وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : فَجْوَةٌ مُتَّسَعٌ ، وَالْجَمِيعُ فَجَوَاتٌ وَفِجَاءٌ ، وَكَذَلِكَ رَكْوَةٌ وَرِكَاءٌ مَنَاصٌ لَيْسَ حِينَ فِرَارٍ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا ( میں بھی وہیں موجود تھا ) کہ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس ہونے کی چال کیا تھی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاؤں اٹھا کر چلتے تھے ذرا تیز ، لیکن جب جگہ پاتے ( ہجوم نہ ہوتا ) تو تیز چلتے تھے ، ہشام نے کہا کہ «عنق» تیز چلنا اور «نص» «عنق» سے زیادہ تیز چلنے کو کہتے ہیں ۔ «فجوة» کے معنی کشادہ جگہ ، اس کی جمع «فجوات» اور «فجاء» ہے جیسے زکوٰۃ مفرد «زكاء» اس کی جمع اور سورۃ ص میں «مناص» کا جو لفظ آیا ہے اس کے معنی بھاگنا ہے ۔