مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: عرفات میں دو نمازوں (ظہر اور عصر) کو ملا کر پڑھنا۔
حدیث نمبر: Q1662
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مَعَ الْإِمَامِ جَمَعَ بَيْنَهُمَا .‏
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اگر نماز امام کے ساتھ چھوٹ جاتی تو بھی جمع کرتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: Q1662
حدیث نمبر: 1662
وَقَال اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَيْفَ تَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ ؟ , فَقَالَ سَالِمٌ : إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : صَدَقَ ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ ، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ : أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَالِمٌ : وَهَلْ تَتَّبِعُونَ فِي ذَلِكَ إِلَّا سُنَّتَهُ .
مولانا داود راز
´لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل نے ابن شہاب سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی کہ` حجاج بن یوسف جس سال عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے مکہ میں اترا تو اس موقع پر اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ عرفہ کے دن وقوف میں آپ کیا کرتے تھے ؟ اس پر سالم رحمہ اللہ بولے کہ اگر تو سنت پر چلنا چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز دوپہر ڈھلتے ہی پڑھ لینا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سالم نے سچ کہا ، صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ظہر اور عصر ایک ہی ساتھ پڑھتے تھے ۔ میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا ؟ سالم نے فرمایا اور کس کی سنت پر اس مسئلہ میں چلتے ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1662
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔