کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: صبح کے وقت منی سے عرفات جاتے ہوئے لبیک اور تکبیر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1659
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ ، كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ , فَقَالَ : " كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ ، وَيُكَبِّرُ مِنَّا الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے محمد بن ابی بکر ثقفی سے خبر دی کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۔ جب کہ` وہ دونوں صبح کو منیٰ سے عرفات جا رہے تھے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ لوگ آج کے دن کس طرح کرتے تھے ؟ انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا : کوئی ہم میں سے لبیک پکارتا ہوتا ، اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور کوئی تکبیر کہتا ، اس پر کوئی انکار نہ کرتا ( اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجی کو اختیار ہے لبیک پکارتا رہے یا تکبیر کہتا رہے ) ۔