مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: زمزم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1636
وَقَالَ عَبْدَانُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فُرِجَ سَقْفِي وَأَنَا بمكة ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا : افْتَحْ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ
مولانا داود راز
´اور عبدان نے کہا کہ مجھ کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میں مکہ میں تھا تو میری ( گھر کی ) چھت کھلی اور جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے ۔ انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا ۔ اس کے بعد ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا ۔ اسے انہوں نے میرے سینے میں ڈال دیا اور پھر سینہ بند کر دیا ۔ اب وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر آسمان دنیا کی طرف لے چلے ۔ آسمان دنیا کے داروغہ سے جبرائیل علیہ السلام نے کہا دروازہ کھولو ۔ انہوں نے دریافت کیا کون صاحب ہیں ؟ کہا جبرائیل ! ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1636
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1637
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ ، قال : " سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ " , قَالَ عَاصِمٌ : فَحَلَفَ عِكْرِمَةُ ، مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَلَى بَعِيرٍ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی ، انہیں عاصم نے اور انہیں شعبی نے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا ، کہا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کھڑے ہو کر پیا تھا ۔ عاصم نے بیان کیا کہ عکرمہ نے قسم کھا کر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اونٹ پر سوار تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1637
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔