حدیث نمبر: 1634
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بمكة لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ ، فَأَذِنَ لَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد بن ابی الاسود نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے پانی ( زمزم کا حاجیوں کو ) پلانے کے لیے منیٰ کے دنوں میں مکہ ٹھہرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی ۔
حدیث نمبر: 1635
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا فَضْلُ ، اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ ، فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا ، فَقَالَ : اسْقِنِي ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ ، قَالَ : اسْقِنِي ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا ، فَقَالَ : اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي عَاتِقَهُ ، وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد طحان نے خالد حذاء سے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پلانے کی جگہ ( زمزم کے پاس ) تشریف لائے اور پانی مانگا ( حج کے موقع پر ) عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ فضل ! اپنی ماں کے یہاں جا اور ان کے یہاں سے کھجور کا شربت لا ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ( یہی ) پانی پلاؤ ۔ عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہر شخص اپنا ہاتھ اس میں ڈال دیتا ہے ۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے رہے کہ مجھے ( یہی ) پانی پلاؤ ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا پھر زمزم کے قریب آئے ۔ لوگ کنویں سے پانی کھینچ رہے تھے اور کام کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں دیکھ کر ) فرمایا کام کرتے جاؤ کہ ایک اچھے کام پر لگے ہوئے ہو ۔ پھر فرمایا ( اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ آئندہ لوگ ) تمہیں پریشان کر دیں گے تو میں بھی اترتا اور رسی اپنے اس پر رکھ لیتا ۔ مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانہ سے تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا ۔