مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: حجر اسود کو بوسہ دینا۔
حدیث نمبر: 1610
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ، انہیں ورقاء نے خبر دی ، انہیں زید بن اسلم نے خبر دی ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور پھر فرمایا کہ ” اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1610
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1611
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قال : " سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ ، أَرَأَيْتَ إِنْ غُلِبْتُ ، قَالَ : اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے زبیر بن عربی نے بیان کیا کہ` ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کے بوسہ دینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کو بوسہ دیتے دیکھا ہے ۔“ اس پر اس شخص نے کہا اگر ہجوم ہو جائے اور میں عاجز ہو جاؤں تو کیا کروں ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ” اس اگر وگر کو یمن میں جا کر رکھو میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو بوسہ دیتے تھے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1611
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔