مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس شخص سے متعلق جس نے صرف دونوں ارکان یمانی کا استلام کیا۔
حدیث نمبر: 1608
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَنَّهُ قَالَ : وَمَنْ يَتَّقِي شَيْئًا مِنْ البيت ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِنَّهُ لَا يُسْتَلَمُ هَذَانِ الرُّكْنَانِ ، فَقَالَ : لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ البيت مَهْجُورًا ، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْتَلِمُهُنَّ كُلَّهُنَّ .
مولانا داود راز
´اور محمد بن بکر نے کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انہوں نے کہا مجھ کو عمرو بن دینار نے خبر دی کہ` ابوالشعثاء نے کہا بیت اللہ کے کسی بھی حصہ سے بھلا کون پرہیز کر سکتا ہے ۔ اور معاویہ رضی اللہ عنہ چاروں رکنوں کا استلام کرتے تھے ، اس پر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ ہم ان دو ارکان شامی اور عراقی کا استلام نہیں کرتے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیت اللہ کا کوئی جزء ایسا نہیں جسے چھوڑ دیا جائے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تمام ارکان کا استلام کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1608
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1609
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ البيت ، إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا ، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سالم بن عبداللہ نے ، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف دونوں یمانی ارکان کا استلام کرتے دیکھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1609
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔