مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کعبہ پر غلاف چڑھانا۔
حدیث نمبر: 1594
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قال : جِئْتُ إِلَى شَيْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قال : " جَلَسْتُ مَعَ شَيْبَةَ عَلَى الْكُرْسِيِّ فِي الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : لَقَدْ جَلَسَ هَذَا الْمَجْلِسَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهُ ، قُلْتُ : إِنَّ صَاحِبَيْكَ لَمْ يَفْعَلَا ، قَالَ : هُمَا الْمَرْءَانِ أَقْتَدِي بِهِمَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے واصل احدب نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں شیبہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( دوسری سند ) اور ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان نے واصل سے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ` میں شیبہ کے ساتھ کعبہ میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا تو شیبہ نے فرمایا کہ اسی جگہ بیٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ نے ( ایک مرتبہ ) فرمایا کہ میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ کعبہ کے اندر جتنا سونا چاندی ہے اسے نہ چھوڑوں ( جسے زمانہ جاہلیت میں کفار نے جمع کیا تھا ) بلکہ سب کو نکال کر ( مسلمانوں میں ) تقسیم کر دوں ۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے ساتھیوں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے تو ایسا نہیں کیا ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں بھی انہیں کی پیروی کر رہا ہوں ( اسی لیے میں اس کے ہاتھ نہیں لگاتا ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1594
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔