مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: حرم کی زمین کی فضیلت۔
حدیث نمبر: Q1587
وَقَوْلِهِ تَعَالَى : إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سورة النمل آية 91 , وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ : أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لا يَعْلَمُونَ سورة القصص آية 57 .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ النمل میں ) فرمایا ” مجھ کو تو یہی حکم ہے کہ عبادت کروں اس شہر کے رب کی جس نے اس کو حرمت والا بنایا اور ہر چیز اسی کے قبضہ و قدرت میں ہے اور مجھ کو حکم ہے تابعدار بن کر رہنے کا “ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ قصص میں فرمایا ” کیا ہم نے ان کو جگہ نہیں دی حرم میں جہاں امن ہے ان کے لیے اور کھنچے چلے آتے ہیں اس کی طرف ، میوے ہر قسم کے جو روزی ہے ہماری طرف سے لیکن بہت سے ان میں نہیں جانتے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: Q1587
حدیث نمبر: 1587
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے بیان کیا ان سے مجاہد نے ، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ پر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شہر ( مکہ ) کو حرمت والا بنایا ہے ( یعنی عزت دی ہے ) پس اس کے ( درختوں کے ) کانٹے تک بھی نہیں کاٹے جا سکتے یہاں کے شکار بھی نہیں ہنکائے جا سکتے ۔ اور ان کے علاوہ جو اعلان کر کے ( مالک تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہوں ) کوئی شخص یہاں کی گری پڑی چیز بھی نہیں اٹھا سکتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1587
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔