مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: قبلہ رخ ہو کر احرام باندھتے ہوئے لبیک پکارنا۔
حدیث نمبر: 1553
وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا صَلَّى بِالْغَدَاةِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ , ثُمَّ رَكِبَ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ قَائِمًا , ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَبْلُغَ الْحَرَمَ , ثُمَّ يُمْ سِكُ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ حَتَّى يُصْبِحَ , فَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ اغْتَسَلَ , وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ , عَنْ أَيُّوبَ فِي الْغَسْلِ .
مولانا داود راز
´اور ابومعمر نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے نافع سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز پڑھ چکے تو اپنی اونٹنی پر پالان لگانے کا حکم فرمایا ، سواری لائی گئی تو آپ اس پر سوار ہوئے اور جب وہ آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تو آپ کھڑے ہو کر قبلہ رو ہو گئے اور پھر لبیک کہنا شروع کیا تاآنکہ حرم میں داخل ہو گئے ۔ وہاں پہنچ کر آپ نے لبیک کہنا بند کر دیا ۔ پھر ذی طویٰ میں تشریف لا کر رات وہیں گزارتے صبح ہوتی تو نماز پڑھتے اور غسل کرتے ( پھر مکہ میں داخل ہوتے ) آپ یقین کے ساتھ یہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا ۔ عبدالوارث کی طرح اس حدیث کو اسماعیل نے بھی ایوب سے روایت کیا ۔ اس میں غسل کا ذکر ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1553
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1554
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى مَكَّةَ ادَّهَنَ بِدُهْنٍ لَيْسَ لَهُ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ ، ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ فَيُصَلِّي ، ثُمَّ يَرْكَبُ , وَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَحْرَمَ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالربیع سلیمان بن داود نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ جانے کا ارادہ کرتے تھے پہلے خوشبو کے بغیر تیل استعمال کرتے ۔ اس کے بعد مسجد ذوالحلیفہ میں تشریف لاتے یہاں صبح کی نماز پڑھتے ، پھر سوار ہوتے ، جب اونٹنی آپ کو لے کر پوری طرح کھڑی ہو جاتی تو احرام باندھتے ۔ پھر فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1554
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔