مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: فوت شدہ نماز کی قضاء کیسے کی جائے؟
حدیث نمبر: 622
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَسْرَيْنَا لَيْلَةً ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ ، نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ وَنَامَ النَّاسُ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ قَدْ طَلَعَتْ عَلَيْنَا ، " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومریم ( مالک بن ربیعہ ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، تو ہم رات بھر چلتے رہے جب صبح ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور سو رہے ، لوگ بھی سو گئے ، تو سورج کی دھوپ پڑنے ہی پر آپ جاگے ، تو آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی ، پھر آپ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے اقامت کہی ، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ نے قیامت قائم ہونے تک جو اہم چیزیں ہونے والی ہیں انہیں ہم سے بیان کیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عطاء بن السائب اختلط ولم يحدث به قبل اختلاطه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11201) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’عطائ‘‘ آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے، اور ابوالا حوص نے ان سے اختلاط کی حالت میں روایت لی ہے)»
حدیث نمبر: 623
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُبِسْنَا عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ " . ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہمیں ( کافروں کی طرف سے ) ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء سے روک لیا گیا ، تو یہ میرے اوپر بہت گراں گزرا ، پھر میں نے اپنے جی میں کہا : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ، اور اللہ کے راستے میں ہیں ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، تو انہوں نے اقامت کہی ، تو آپ نے ہمیں ظہر پڑھائی ، پھر انہوں نے اقامت کہی ، تو آپ نے ہمیں عصر پڑھائی ، پھر انہوں نے اقامت کہی ، تو آپ نے ہمیں مغرب پڑھائی ، پھر انہوں نے اقامت کہی ، تو آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر گھومے اور فرمایا : ” روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں ہے ، جو اللہ کو یاد کر رہی ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 623
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (179) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
حدیث تخریج «سنن الترمذی/الصلاة 18 (179)، (تحفة الأشراف: 9633)، مسند احمد 1/375، 423، ویأتي عند المؤلف برقم: 663، 664 (صحیح) (اس کی سند میں ’’ابو عبیدة‘‘ اور ان کے والد ’’ابن مسعود رضی اللہ عنہ‘‘ کے درمیان انقطاع ہے، نیز ’’ابوالزبیر‘‘ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، مگر ابو سعید کی حدیث (رقم : 662) اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث (رقم: 483، 536) سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 624
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ " ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا ، تو ہم ( سوتے رہے ) جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر شخص کو چاہیئے کہ اپنی سواری کا سر تھام لے ( یعنی سوار ہو کر یہاں سے نکل جائے ) کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جس میں شیطان ہمارے ساتھ رہا “ ، ہم نے ایسا ہی کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا اور وضو کیا ، پھر دو رکعت نماز پڑھی ، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے فجر پڑھائی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 624
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المساجد 55 (680)، (تحفة الأشراف: 13444)، مسند احمد 2/428، 429 (صحیح)»
حدیث نمبر: 625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي سَفَرٍ لَهُ : " مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ لَا نَرْقُدَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟ " قَالَ بِلَالٌ : أَنَا ، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ حَتَّى أَيْقَظَهُمْ حَرُّ الشَّمْسِ ، فَقَامُوا ، فَقَالَ : " تَوَضَّئُوا ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک سفر میں فرمایا : ” آج رات کون ہماری نگرانی کرے گا تاکہ ہم فجر میں سوئے نہ رہ جائیں ؟ “ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ، پھر انہوں نے سورج نکلنے کی جانب رخ کیا ، تو ان پر ایسی نیند طاری کر دی گئی کہ کوئی آواز ان کے کان تک پہنچ ہی نہیں سکی یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے انہیں بیدار کیا ، تو وہ اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ وضو کرو “ ، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت فجر کی سنت پڑھی ، اور لوگوں نے بھی فجر کی دو رکعت سنت پڑھی ، پھر لوگوں نے فجر پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 625
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3201)، مسند احمد 4/81 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَرَّسَ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ بَعْضُهَا ، فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى وَهِيَ صَلَاةُ الْوُسْطَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چلے ، پھر رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا ، تو آپ جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا ، یا اس کا کچھ حصہ نکل آیا ، اور آپ نماز نہیں پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج اوپر چڑھ آیا ، پھر آپ نے نماز پڑھی ، اور یہی «صلوٰۃ وسطی» ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: لیکن صلاۃ فجر کو صلاۃ الوسطی کہنا منکر ہے، صلاۃ الوسطی عصر کی صلاۃ ہے، جب کہ وہ فجر کی صلاۃ تھی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 626
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر بزيادة وهي صلاة الوسطى , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، شاذ قول الراوي ’’وهي صلاة الوسطي‘‘ شاذ،والصواب أن صلاة الوسطي هي صلاة العصر. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5388)، وانظر مسند احمد 1/259 (منکر) (فجر کو ’’صلاة الوسطی‘‘ کہنا منکرہے، ’’صلاة الوسطی‘‘ عصر کی صلاة ہے، اس کے راوی ’’ حبیب بن أبی حبیب‘‘ سے وہم ہو جایا کرتا تھا)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔